نواز شریف کا معاملہ طے کرنے کیلئے 48 گھنٹے کی مہلت ہے۔


ستمبر 9, 2019 پاک نیوز

پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے پاس نواز شریف کے معاملہ پر عوامی جمہوریہ چین کے تحفظات دور کرنے کیلئے 48 گھنٹےباقی ہیں ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں چینی حمایت کے حصول کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو اقدامات کرنا ہیں ۔پیر کے روز بنکاک میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے وعدہ کردہ اقدامات پر غور کیلئے تین روزہ اجلاس ہو رہا ہے ۔

پاکستانی وفد اجلاس میں پاکستان کا کیس تندہی کے ساتھ پیش کر رہا ہے ۔ایشیا پیسیفک گروپ کا یہ اخری اجلاس ہے جو اپنی سفارشات حتمی فیصلہ کیلئے پیش کرے گا ۔

پاکستان کو 36 رکنی گروپ میں کم از کم تین ممالک کی حمایت درکار ہے ۔گزشتہ اجلاس میں پاکستان چین ،ترکی اور ملایشیا کی حمایت سے بلیک لسٹ ہونےکی سفارش سے بچ نکلا تھا اور اسے ستمبر تک کی مہلت مل گئی تھی ۔زرائع کا کہنا ہے موجودہ اجلاس میں پاکستان کو چینی سفارشات کی اشد ضرورت ہے اور چینی حمایت نواز شریف کے معاملہ حل کرنے سے مشروط ہے ۔

زرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں عوامی جمہوریہ چین سے مہلت حاصل کر لی جائے اور ٹھوس وعدے بھی کئے جائیں ۔چینیوں نے اگر وعدوں پر اعتبار کر لیا تو پاکستان کو بلیک لسٹ کی سفارشات سے بچنے کیلئے چین کی حمایت مل جائے گی تاہم آئندہ ماہ یعنی ایف اے ٹی ایف کے اکتوبر کے حتمی اجلاس سے قبل پاکستان کو نواز شریف کے معاملہ پر چینیوں کو مطمین کرنا ہی ہو گا ۔

زرائع کا کہنا ہے طالبان امریکہ امن مذاکرات ملتوی ہونے سے امریکیوں کی پاکستان کی ضرورت فی الحال ختم ہو گئی ہے اور امریکی حمایت کیلئے طالبان کے حوالہ سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس فروخت کیلئے کوئی مال موجود نہیں ۔بھارتی پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کیلئے تمام حربے استمال کر رہے ہیں اور پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال مزید مشکلات اور پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے ۔

پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ حکومت کی تمام محاذوں پر ناقص کارکردگی کی وجہ سے بہت مشکلات کا شکار ہے ۔دنیا کے طاقتور ممالک موجودہ حکومت کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دورے کی خواہشات کو بھی پزیرائی نہیں بخش رہے جبکہ بھارت کے اعلی سطحی وفود دنیا بھر کے دورے کر کے اپنا موقف بیان کر رہے ہیں اور پاکستانی حکمران محض سوشل میڈیا کے زریعے اپنے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں ۔اسٹیبلشمنٹ کو ملک کے اندر بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی اشد ضرورت ہے اور امریکی بھارتی مخالف لابی کے چیلنج سے نپٹنے کیلئے چینی حمایت درکار ہے ۔

زرائع کا کہنا ہے چینی حمایت سیاسی استحکام سے مشروط ہے اور یہ استحکام میاں نواز شریف کے معاملہ کے حل سے مشروط ہے ۔میاں نواز شریف کےمعاملہ کو نپٹانے کیلئے 48 گھنٹے یا اگر چینی مہلت دینے پر تیار ہو گئے تو مزید 30 یا 35 دن ہونگے تاکہ پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ سکے ۔

زرائع کا کہنا ہے اگر اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نپٹنے کیلئے آگے بڑھ کر جرات مندانہ فیصلے نہ کئے اور پاکستان بلیک لسٹ ہو گیا تو معاملات بہت خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے ۔انتہا پسند مذہبی تنظیموں کے حوالہ سے پاکستان کا بازو مروڑا جا سکے گا اور معاشی بحران خوفناک شکل اختیار کر جائے گا ۔جس کا نتیجہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے بچانے تک بھی آ سکتا یے۔

معاملات اس قدر مخدوش ہیں اقتصادی اہداف حاصل نہ ہونے پر آئی ایم ایف کا بیل اوٹ پیکیج بھی معطل ہو سکتا ہے ۔

ملکی سلامتی کے معاملات بعض عہدیداروں پر ان پہنچے ہیں کہ وہ ضد اور انا کے خول توڑ کر میاں نواز شریف کا معاملہ حل کرتے ہیں اور غلطیوں کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں یا پھر ملک کے دلدل میں ڈوبنے کا تماشا خاموشی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *